Skip to content

اک ہجرت کی آوازوں کا

اک ہجرت کی آوازوں کا
کوئی بین سنے دروازوں کا

زکریا پیڑوں کی مت سن
یہ جنگل ہے خمیازوں کا

ترے سر میں سوز نہیں پیارے
تو اہل نہیں مرے سازوں کا

اوروں کو صلاحیں دیتا ہے
کوئی ڈسا ہوا اندازوں کا

مرا نخرہ کرنا بنتا ہے
میں غازی ہوں ترے غازوں کا

اک ریڑھی والا منکر ہے
تری توپوں اور جہازوں کا