Skip to content

سکوت شام کا حصہ تو مت بنا مجھ کو

سکوت شام کا حصہ تو مت بنا مجھ کو
میں رنگ ہوں سو کسی موج میں ملا مجھ کو

میں ان دنوں تری آنکھوں کے اختیار میں ہوں
جمال سبز کسی تجربے میں لا مجھ کو

میں بوڑھے جسم کی ذلت اٹھا نہیں سکتا
کسی قدیم تجلی سے کر نیا مجھ کو

میں اپنے ہونے کی تکمیل چاہتا ہوں سکھی
سو اب بدن کی حراست سے کر رہا مجھ کو

مجھے چراغ کی حیرت بھی ہو چکی معلوم
اب اس سے آگے کوئی راستہ بتا مجھ کو

اس اسم خاص کی ترکیب سے بنا ہوں میں
محبتوں کے تلفظ سے کر نیا مجھ کو

درون سینہ جسے دل سمجھ رہا تھا علیؔ
وہ نیلی آگ ہے یہ اب پتا چلا مجھ کو