Skip to content

میں جب وجود کے حیرت کدے سے مل رہا تھا

میں جب وجود کے حیرت کدے سے مل رہا تھا
مجھے لگا میں کسی معجزے سے مل رہا تھا

میں جاگتا تھا کہ جب لوگ سو چکے تھے تمام
چراغ مجھ سے مرے تجربے سے مل رہا تھا

ہوس سے ہوتا ہوا آ گیا میں عشق کی سمت
یہ سلسلہ بھی اسی راستے سے مل رہا تھا

خدا سے پہلی ملاقات ہو رہی تھی مری
میں اپنے آپ کو جب سامنے سے مل رہا تھا

عجیب لے تھی جو تاثیر دے رہی تھی مجھے
عجیب لمس تھا ہر زاویے سے مل رہا تھا

میں اس کے سینۂ شفاف کی ہری لو سے
دہک رہا تھا سو پورے مزے سے مل رہا تھا

ثواب و طاعت و تقویٰ فضیلت و القاب
پڑے ہوئے تھے کہیں میں نشے سے مل رہا تھا

ترے جمال کا بجھنا تو لازمی تھا کہ تو
بغیر عشق کئے آئنے سے مل رہا تھا

زمین بھی مرے آغوش سرخ میں تھی علیؔ
فلک بھی مجھ سے ہرے ذائقے سے مل رہا تھا