Skip to content

بھرے نگر میں نہیں اک بھی ہم نوا کوئی

بھرے نگر میں نہیں اک بھی ہم نوا کوئی
"اکیلے پن کی بھی ہوتی ہے انتہا کوئی”

پڑی وہ آن کے اُفتاد میرے لوگوں پر
سنائی دیتی نہیں اب ہمیں صدا کوئی

کسی نے تو یہ خرابہ بسانا ہے آخر
نہ ہونگے ہم تو بسائے گا دوسرا کوئی

میں بھردوں کوزہ گروں کو زر و جواہر سے
مری یہ خاک بھی گر کر دے کیمیا کوئی

چڑھا کے پھر رہے ہیں سب ہی خول چہروں پر
چلی ہے اب کے یہاں، اور ہی ہَوا کوئی

بلا کی ہے شفا اس مرہمی سے لہجے میں
کہ جی سا اٹھتا ہے مرنے لگے ذرا کوئی

کسی کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں ایک عرصے سے
دکھائی ایک زمانے سے نہ دیا کوئی

میں لاکھ چیختا چلاتا ہوں عزیرؔ مگر
فلک کے پار نہیں جاتی ہے نوا کوئی