Skip to content

سایہ اِک اِنچ نہیں، قد ہیں صنوبر جیسے

سایہ اِک اِنچ نہیں، قد ہیں صنوبر جیسے
چُلو بھر آب نہیں، بول سمندر جیسے

یوں نِتھارا ہے کسی چشمِ شفق رُو نے مجھے
بیل اُگ آتی ہو دیوار کے اندر جیسے

اِک ذرا بخششِ بِینش کو تری کھڑکی میں
چاند پھرتا ہے یوں، پھرتا ہو گداگر جیسے

یوں کِھلاتا ہے گلِ شوق، ترا لمسِ زرد
تان لیتی ہو فضا رنگ کی چادر جیسے

نوچ ڈالے نہ کہیں تم کو تمہاری دھرتی
پھینک دیتے ہو یہاں پھول مَسل کر جیسے

بنتے جاتے ہیں کتب خانوں میں لفظوں کے پہاڑ
ہرمِ مصر میں پتھر پہ ہوں پتھر جیسے

وہ قیامت مری دہلیز پہ برپا ہے عزیرؔ
شہر کا شہر کھڑا ہو مرے در پر جیسے