Skip to content

ہاں اُسی نے مجھے بخشے ہیں یہ اقرار کے ہار

ہاں اُسی نے مجھے بخشے ہیں یہ اقرار کے ہار
جس نے گردن میں مری ڈالے فقط ہار کے ہار

سارا عالم ہی جہاں پر ہو گرفتارِ طلب
ایسے عالم میں کہاں ملتے ہیں معیار کے ہار

اور تو کیا مرا جانا ہے مرے ساتھ وہاں
ساتھ جائیں گے مرے یار یہ آزار کے ہار

اے سخن دیوی بہ تقریبِ تصدق تیرے
ہم سخن گو کھڑے ہیں تھام کے اشعار کے ہار

دوست پائیں گے وہیں خم، سرِ تسلیم مرا
کوئی آئے تو سہی لے کے کبھی پیار کے ہار

سابقہ جن سے پڑا اب کے بنی جہلِ تجھے
مرگ تیری انہی دوچار کے افکار کے ہار

اسکی گنتی میں بھی ممکن ہے نہ آؤں یارو
واسطے جس کے چنے گوہرِ شہوار کے ہار

یہ سبھی پھول بدن خاک ہوئے اور عزیرؔ
کاٹ کھائیں گے مجھے بھی مری دیوار کے ہار