Skip to content

مجھ سے مت پوچھ کِدھر سے ہوں کہاں سے ہوں میں

مجھ سے مت پوچھ کِدھر سے ہوں کہاں سے ہوں میں
گرد چہرے کی بتائے گی جہاں سے ہوں میں

خال و خد سے مجھے مت ماپ کہ اے کور نظر
سنگِ رہ ہی سہی، عالی گہراں سے ہوں میں

جانے کس جا مجھے لے جائے مری موجِ جنوں
گزراں سے ہوں میں، آشفتہ سراں سے ہوں میں

سوختہ جانوں سے پوچھے ہیں کہ کیا کیا ہے پاس!
یہ ہی کیا کم ہے کہ خونیں جگراں سے ہوں میں

میری پہچان مرے حال سے مت کر مری جان
آبِ جامد ہی سہی، بحرِ رواں سے ہوں میں

بےدلی! مجھ کو حیا آتی ہے یہ کہتے یہاں
شہرِ لاہور سے ہوں، زندہ دِلاں سے ہوں میں