Skip to content

اُسے بھی ایسے ہی کیا بےمُہار رکھا ہے

اُسے بھی ایسے ہی کیا بےمُہار رکھا ہے؟
مِرے جہاں سے پرے جو دیار رکھا ہے

وہ جس کسی کی نہیں ہوں کسی بھی گنتی میں
وہی ہر ایک سے آگے شمار رکھا ہے

یہ بھید اب تو عیاں کر خدائے بست و کشاد
ہر ایک گل جو سرِ نوکِ خار رکھا ہے

ستم گرو! مجھے مت بھولو میں نے وقتِ خزاں
یہاں پہ ذکرِ نسیمِ بہار رکھا ہے

مِرے اُجالے سے محروم ہے مکان مرا
چراغِ خانہ سرِ رہ گزار رکھا ہے

حساب سارے چُکائیں گے وقت آنے پہ ہم
عزیرؔ جس کسی کا بھی ادھار رکھا ہے