Skip to content

سب میسر ہے پھر بھی شاد نہیں

سب میسر ہے پھر بھی شاد نہیں
مجھ کو ہنسنا بھی میرا یاد نہیں

بس کیے جا رہے ہیں کارِ سخن
ہم کو ہرگز کوئی مفاد نہیں

پاس میرے بھی خوں پسینہ ہے
میرے پیچھے بھی جائداد نہیں!

کون ساتھی ہو میری وحشت کا
مجھ کو اپنا بھی اعتماد نہیں

ایک سے ایک ہے گلاب یہاں
جو نہیں تو گلِ مراد نہیں

عیب ہوں گے عزیرؔ لاکھ مگر
قول اور فعل میں تضاد نہیں