Skip to content

سبھی واقف ہیں یہاں گو تری صیادی سے

سبھی واقف ہیں یہاں گو تری صیادی سے
شرم آتی ہے بس اِس قامتِ شمشادی سے

بزمِ ماتم ہی سجاؤ کہ مرے وحشی کا
جی بہلتا ہی نہیں زمزمۂ شادی سے

خستہ حالی سے مری مجھ کو پرکھنے والو
میری تعمیر اٹھے گی اِسی بربادی سے

یہ درندہ بھی تجھے جان سے پیارا ہے تو سُن
میری بیٹی بھی مجھے کم نہیں شہزادی سے!

شاد ہو کر بھی کسی کو وہ کہاں ملنے لگا
ہم نے پایا جو یہاں حالتِ ناشادی سے

کون دیوار سے ٹکرائے سر اپنا جا کر
کوئی پوچھے تو مری جان ترے عادی سے

چُستی تو دیکھ مرے مصرعِ برجستہ کی
یہ ہنر مجھ کو ملا میر کی استادی سے