Skip to content

پھیر لیں آنکھیں اگر تجھ سے تو کیا رہ جائے گا

پھیر لیں آنکھیں اگر تجھ سے تو کیا رہ جائے گا
کس قدر سُونا ترا دستِ حِنا رہ جائے گا

خامشی سے چھین لیں گے سب مِرا یہ اہلِ زر
میرے ہاتھوں میں فقط حرفِ دعا رہ جائے گا

جوہر ایسے وا کیے واماندگئ حال نے
آئینہ بھی ہم کو حیراں دیکھتا رہ جائے گا

گالوں سے رِستی رہے گی اگلی رُت کی بےکَسی
ایک دریا حسرتوں کا سوکھتا رہ جائے گا

عین ممکن ہے کہ چڑھنے سے مُکر جائے یہ دن
کُھلنے سے جس دن ترا بندِ قبا رہ جائے گا

مدتوں میری مسیحائی کریں گے چارہ ساز
زخم لیکن پھر بھی میرا تو ہرا رہ جائے گا

آج پھر اک سانولی نے مجھ پہ جادو ہے کیا
آج پھر اک خواب پلکوں پر دھرا رہ جائے گا