Skip to content

ہمیں کیا اس جہانِ آب و گِل سے

ہمیں کیا اس جہانِ آب و گِل سے
ہمیں ہے مدعا صرف ایک دل سے

کر آئیں سر بھلے جتنے بھی کہسار
پھسل جائیں گے لیکن تیرے تل سے

گزر کرتے ہیں پیناڈول پر ہم
ہمیں ملتی نہیں تعطیل مل سے

نجانے تاک میں ہے کون افتاد
بھٹکتے ہیں مہ و انجم خجل سے

بہار آئے، خزاں آئے، کچھ آئے
مگر جانے کی نئیں ویرانی دل سے

کسے دوں دوش اے بدحالئ جاں
لگا ہے دل مرا پتھر کی سل سے

کسی نے اک نظر دیکھا گلی میں
خدوخالِ دو عالم اٹھے کھل سے