Skip to content

چپکے رہنا ہو جدھر سب ہی وہاں بولتے ہیں

چپکے رہنا ہو جدھر سب ہی وہاں بولتے ہیں
ہائے! کیا لوگ ہیں یہ اور کہاں بولتے ہیں

اِک زمانے سے فِروکش ہے مری چوکھٹ پر
جس زمانے کو یہاں عہدِ رواں بولتے ہیں

خود ہی لڑتے ہیں ہواؤں سے یہ سب خام خیال
خود ہی تھک ہار کے پھر اشک فشاں بولتے ہیں

یار! لہجوں کی دُرشتی پہ غضب ناک نہ ہو
یہ ہی ہوتا ہے جہاں تِشنہ دہاں بولتے ہیں

دیکھیو جان مری لیں گے یہی جو مجھ کو
وقت بے وقت مری جاں مری جاں بولتے ہیں

سب کی آوازوں پہ مڑ کے نہیں دیکھا کرتے
راہ سے پھرتے نہیں جب کہ سگاں بولتے ہیں

اب بھی سنتا نہیں کوئی تو یہ مرضی اسکی
ہم سخن گو تو کراں تا بہ کراں بولتے ہیں