Skip to content

پیر چھونے والے بھی پیچھا چُھڑانے لگ گئے

پیر چھونے والے بھی پیچھا چُھڑانے لگ گئے
جب مُیسر مفت میں ہم لوگ آنے لگ گئے

راستے خود ہی ہمیں رستہ دکھانے لگ گئے
رستے جب ہم لوگ، لوگوں کے بنانے لگ گئے

ہم کو تو بھیجا گیا تھا اک تِری خاطر یہاں
اور دُکھ ہم سارے عالم کے بٹانے لگ گئے

نوچ ڈالے گا سمے کا یہ درندہ ایک دن
نقش وہ جن کو بنانے میں زمانے لگ گئے

کل تلک میں بخشتا تھا نور جنکی آنکھوں کو
اب وہی مل کے مجھے آنکھیں دکھانے لگ گئے

شیشہ انداموں نے سکھلائی ہے وہ شیشہ گری
خاک کو بھی ہم یہاں کندن بنانے لگ گئے

اک متاعِ درد ہاتھوں میں بچی تھی آخرش
سو اسے بھی قہقہوں میں اب اڑانے لگ گئے

یوں لگا کے پھرتے ہیں سینے سے تیرا غم یہاں
ہاتھ جیسے کوئی دنیا کے خزانے لگ گئے

حیف ہم ایسے اسیروں کی اسیری بھی عزیر
عشق جو اپنے ہی زنداں سے رچانے لگ گئے