Skip to content

وجود اپنا مجھے دے دو

تمہارے ہیں کہو اک دن
کہو اک دن
کہ جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے سب کچھ تمہارا ہے
کہو اک دن
جسے تم چاند سا کہتے ہو وہ چہرہ تمہارا تھا
ستارہ سی جنہیں کہتے ہو وہ آنکھیں تمہاری ہیں
جنہیں تم شاخ سی کہتے ہو وہ بانہیں تمہاری ہیں
کبوتر تولتے ہیں پر تو پروازیں تمہاری ہیں
جنہیں تم پھول سی کہتے ہو وہ باتیں تمہاری ہیں
قیامت سی جنہیں کہتے ہو رفتاریں تمہاری ہیں
کہو اک دن
کہو اک دن
کہ جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے سب کچھ تمہارا ہے
اگر سب کچھ یہ میرا ہے تو سب کچھ بخش دو اک دن
وجود اپنا مجھے دے دو محبت بخش دو اک دن
مرے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ کر روح میری کھینچ لو اک دن