Skip to content

مگر تم سیں ہوا ہے آشنا دل

مگر تم سیں ہوا ہے آشنا دل
کہ ہم سیں ہو گیا ہے بے وفا دل

چمن میں اوس کے قطروں کی مانند
پڑے ہیں تجھ گلی میں جا بہ جا دل

جو غم گزرا ہے مجھ پر عاشقی میں
سو میں ہی جانتا ہوں یا مرا دل

ہمارا بھی کہاتا تھا کبھی یہ
سجن تم جان لو یہ ہے مرا دل

کہو اب کیا کروں دانا کہ جب یوں
برہ کے بھاڑ میں جا کر پڑا دل

کہاں خاطر میں لاوے آبروؔ کوں
ہوا اس میرزا کا آشنا دل