Skip to content

سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری

سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری
نہ جانے میں نے توبہ کی تو مے خانے پہ کیا گزری

ملیں تو فائزان منزل مقصود سے پوچھوں
گزر گاہ محبت سے گزر جانے پہ کیا گزری

کسی کو میرے کاشانے سے ہمدردی نہیں شاید
ہر اک یہ پوچھتا ہے میرے کاشانے پہ کیا گزری

نہ ہو جو زندگی انجام وہ وجدان ناقص ہے
حضور شمع بعد وجد پروانے پہ کیا گزری

بتائیں برہمن اور شیخ ان کی خانہ جنگی میں
خدا خانے پہ کیا بیتی صنم خانے پہ کیا گزری

تو اپنے ہی مآل سوز غم پر غور کر پہلے
تجھے اس سے نہیں کچھ بحث پروانے پہ کیا گزری

کسی حکمت سے کر دے کوئی گویا مرنے والوں کو
یہ راز اب تک ہے سربستہ کہ مر جانے پہ کیا گزری

تری ہر سو تجلی اور میری ہر طرف نظریں
تجھے تو یاد ہوگا آئینہ خانے پہ کیا گزری

زباں منہ میں ہے عرض حال کر تو نے تو دیکھا ہے
کہ خوئے ضبط و خاموشی سے پروانے پہ کیا گزری

وہ کہتا تھا خدا جانے بہار آئے تو کیا گزرے
خدا جانے بہار آئی تو دیوانے پہ کیا گزری

یہ ہے سیمابؔ اک نا گفتہ بہ افسانہ کیا کہیے
وطن سے کنج غربت میں چلے آنے پہ کیا گزری