Skip to content

یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دی

یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دی
کہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی

سنا تھا قصہ خواں کوئی نیا قصہ سنائے گا
ہمارے منہ پہ ظالم نے ہماری داستاں رکھ دی

خلوص دل سے سجدہ ہو تو اس سجدے کا کیا کہنا
وہیں کعبہ سرک آیا جبیں ہم نے جہاں رکھ دی

اٹھایا میں نے شام ہجر لطف گفتگو کیا کیا
تصور نے تری تصویر کے منہ میں زباں رکھ دی