Skip to content

شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میں

شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میں
میں پھول بن کے آؤں گا اب کی بہار میں

کفنائے باغباں مجھے پھولوں کے ہار میں
کچھ تو برا ہو دل مرا اب کی بہار میں

گندھوا کے دل کو لائے ہیں پھولوں کے ہار میں
یہ ہار ان کو نذر کریں گے بہار میں

نچلا رہا نہ سوز دروں انتظار میں
اس آگ نے سرنگ لگا دی مزار میں

خلوت خیال یار سے ہے انتظار میں
آئیں فرشتے لے کے اجازت مزار میں

ہم کو تو جاگنا ہے ترے انتظار میں
آئی ہو جس کو نیند وہ سوئے مزار میں

میں دل کی قدر کیوں نہ کروں ہجر یار میں
ان کی سی شوخیاں ہیں اسی بے قرار میں

سیمابؔ بے تڑپ سی تڑپ ہجر یار میں
کیا بجلیاں بھری ہیں دل بے قرار میں

تھی تاب حسن شوخیٔ تصویر یار میں
بجلی چمک گئی نظر بے قرار میں

بادل کی یہ گرج نہیں ابر بہار میں
برا رہا ہے کوئی شرابی خمار میں

عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

تنہا مرے ستانے کو رہ جائے کیوں زمیں
اے آسمان تو بھی اتر آ مزار میں

خود حسن نا خدائے محبت خدائے دل
کیا کیا لئے ہیں میں نے ترے نام پیار میں

مجھ کو مٹا گئی روش شرمگیں تری
میں جذب ہو گیا نگۂ شرمسار میں

اللہ رے شام غم مری بے اختیاریاں
اک دل ہے پاس وہ بھی نہیں اختیار میں

اے اشک گرم ماند نہ پڑ جائے روشنی
پھر تیل ہو چکا ہے دل داغدار میں

یہ معجزہ ہے وحشت عریاں پسند کا
میں کوئے یار میں ہوں کفن ہے مزار میں

اے درد دل کو چھیڑ کے پھر بار بار چھیڑ
ہے چھیڑ کا مزا خلش بار بار میں

افراط معصیت سے فضیلت ملی مجھے
میں ہوں گناہ گاروں کی پہلی قطار میں

ڈرتا ہوں یہ تڑپ کے لحد کو الٹ نہ دے
ہاتھوں سے دل دبائے ہوئے ہوں مزار میں

تم نے تو ہاتھ جور و ستم سے اٹھا لیا
اب کیا مزا رہا ستم روزگار میں

کیا جانے رحمتوں نے لیا کس طرح حساب
دو چار بھی گناہ نہ نکلے شمار میں

او پردہ دار اب تو نکل آ کہ حشر ہے
دنیا کھڑی ہوئی ہے ترے انتظار میں

روئی ہے ساری رات اندھیرے میں بے کسی
آنسو بھرے ہوئے ہیں چراغ مزار میں

سیمابؔ پھول اگیں لحد عندلیب سے
اتنی تو زندگی ہو ہوائے بہار میں