Skip to content

جھڑا ہے یوں بھی مقدر مرے گریباں سے

جھڑا ہے یوں بھی مقدر مرے گریباں سے
کہ خوف کھاتا تھا مل کر مرے گریباں سے

اسی وجہ سے نہ دامن کو چاک کر پایا
الجھ پڑا تھا رفو گر مرے گریباں سے

لپٹ رہی تھی گلے سے وہ جل پری میرے
چھلک رہا تھا سمندر مرے گریباں سے

ضرور ریگِ تپاں ہمسفر رہی ہوگی
اسے لگا ہے یہ اکثر مرے گریباں سے

یہ کس نے اسمِ تعجب بنا دیا مجھ کو
یہ کس نے باندھ دیا سر مرے گریباں سے

درونِ خواب کئی روزنوں کے ہوتے ہوئے
ترا خیال گرا پر مرے گریباں سے

جسے قبائے دہر صورتِ اماں تھی کبھی
اسی کو لگنے لگا ڈر مرے گریباں سے