Skip to content

عجیب معجزے وقتِ نزع سحر سے اٹھے

عجیب معجزے وقتِ نزع سحر سے اٹھے
ہزار چھالے مرے ارتقائے پر سے اٹھے

تمام عمر عقیدوں کے دائروں میں رہے
اٹھے تو ایسے اٹھے جیسے خیر شر سے اٹھے

جناب بخت کے ماروں کے یہ نحیف قدم
کبھی تھکن سے رکے تو کبھی یہ ڈر سے اٹھے

میں چاہتا ہوں کہ فطرت کے قاعدے بدلوں
اگن سے چاندنی پھوٹے دھواں قمر سے اٹھے

ضعیف لہجے میں توڑا سکوت اس نے کہا
ہمارے ہاتھ اسیری کے اس سفر سے اٹھے

غزل سے شور اٹھے مرثیہ نگاری کا
زمینِ دشت کا اک زاویہ ہنر سے اٹھے

خدا کا شکر محبت یہ راس آنے لگی
خدا کا شکر جنازے نمی کے در سے اٹھے

پھر ایک شور اٹھا کوئے جاوداں کی طرف
پھر ایک پل میں کئی ہاتھ دشت بھر سے اٹھے

عجیب کیف ہے اس عالمِ فسردگی میں
دعا کرو یہ سہولت نہ میرے گھر سے اٹھے