Skip to content

خوف کا روپ معانی سے نمودار ہوا

خوف کا روپ معانی سے نمودار ہوا
ایسا کردار کہانی سے نمودار ہوا

مجھ کو مارا تھا مقدر نے بیابانوں میں
جسم حیرت ہے کہ پانی سے نمودار ہوا

بادشاہوں کا بھرم تاج سے گرتے دیکھا
پیار نامہ کسی رانی سے نمودار ہوا

پہلے وہ ضبط کے دلدل میں کہیں ڈوب گیا
بعد میں اشک فشانی سے نمودار ہوا

پھر کئی دیپ جلے مرقدِ ماضی کے قریں
پھر دھواں نقل مکانی سے نمودار ہوا

بات بے بات انوکھی سی تمنا کا حصول
یعنی بچپن بھی جوانی سے نمودار ہوا

جھرجھری دیکھنے والی تھی سرِ کرب و بلا
دستِ عباس جو پانی سے نمودار ہوا