Skip to content

اس دل کو بابِ ہجر بنانے سے پیشتر

اس دل کو بابِ ہجر بنانے سے پیشتر
میں ہنس رہا تھا آنکھ ملانے سے پیشتر

تخلیقِ کائنات سے پہلے بھی تھا کوئی
کیسا خدا تھا کن کے ترانے سے پیشتر

اب کیوں فسردہ ہو مرے بکھرے وجود پر
یہ سوچنا تھا ہاتھ لگانے سے پیشتر

خوابوں میں ایک گھر تھا عجب سی تراش کا
جو لٹ چکا تھا نیند کے آنے سے پیشتر

اب گر چکا ہوں ٹوٹ کے میرے شریکِ حال
چلتا تھا وقت میرا زمانے سے پیشتر

خیموں میں ذکرِ خیر فضا میں درود تھا
جلنے لگے چراغ جلانے سے پیشتر

ملتی ہیں عزتیں تو یہی سوچتا ہوں میں
میں کون تھا جبیں کو جھکانے سے پیشتر