Skip to content

کیا ہوا نیند کی پناہوں میں

کیا ہوا نیند کی پناہوں میں
دھول اڑتی ہے خواب گاہوں میں

چھوڑ دینا کسی کو گھبرا کر
ایسا ہوتا نہیں ہے شاہوں میں

اب تو کارِ ثواب لازم ہے
لطف آیا نہیں گناہوں میں

کس لیے منہمک ہوئے اتنے
راگ داری نہیں ہے آہوں میں

شب کی ظلمت اسیر کرتے ہوئے
چھپ گیا دیپ خانقاہوں میں

دشت در دشت ایک سایہ ہے
اور اک جسم ہے نگاہوں میں

دور جتنا بھی ہو درِ بخشش
چلتے رہنا اسی کی راہوں میں