Skip to content

کسی کرن نہ کسی چاندنی سے چمکے گی

کسی کرن نہ کسی چاندنی سے چمکے گی
جبینِ بخت فقط بندگی سے چمکے گی

چراغ جان پکڑ لیں گے تیرے چھونے سے
قبائے طاق تری روشنی سے چمکے گی

یہ ہفت روزہ اذیت یہ گاہے گاہے الم
ہماری عمر بھی یعنی نمی سے چمکے گی

حیات نذر ہوئی آفتوں کے پر ہے یقیں
کہ زخم خوردہ یہ نامِ علی ع سے چمکے گی

اے معجزوں کی امیں چھوڑ سارے حربوں کو
بدن کی ناؤ ترے ہاتھ ہی سے چمکے گی

نجات کیسے ملے دھول سے اٹے دل کو
بتا اے دوست یہ تختی کسی سے چمکے گی

اُسے خدا کے قریں دیکھ کر مری صورت
بہ شکلِ خوف بڑی بے دلی سے چمکے گی