Skip to content

برائے قلب و نظر زندگی نہیں ہوں میں

برائے قلب و نظر زندگی نہیں ہوں میں
کہ اولیں ہوں مگر آخری نہیں ہوں میں

ہوائے گریہ چلی مٹ گئے نقوش مرے
ابھی ابھی تو یہیں تھا ابھی نہیں ہوں میں

چراغِ بخت کے بجھنے پہ مضطرب نہ ہوا
مجھے خبر تھی سرِ روشنی نہیں ہوں میں

مثالِ برگ و ثمر ٹوٹنا مقدر ہے
ہرا ہوا ہوں مگر دائمی نہیں ہوں میں