Skip to content

وہ جو دھول تھی پسِ کارواں وہ کہاں گئی

وہ جو دھول تھی پسِ کارواں وہ کہاں گئی
وہی زندگی مرے مہرباں وہ کہاں گئی

جو زمینِ دل کا شباب تھا وہ کدھر گیا
جو چمک سی تھی سرِ آسماں وہ کہاں گئی

یہ بھلی سی شکلیں ہیں خواب کی انہیں کیا کروں
جسے میں نے سمجھا تھا راز داں وہ کہاں گئی

یہ بھی ٹھیک ہے مجھے دیپ رستوں میں مل گئے
مگر اے خدا مری کہکشاں وہ کہاں گئی

جسے چھوڑ آیا تھا خواب میں وہ یہیں رہی
جسے ساتھ رکھا وہ داستاں وہ کہاں گئی