Skip to content

دیکھو ذرا یہ رعب کجاوے کے ارد گرد

دیکھو ذرا یہ رعب کجاوے کے ارد گرد
دستِ وفا کی چھاپ قبیلے کے ارد گرد

لٹنے لگا ہے مالکِ محشر کا خاندان
اڑنے لگی ہے خاک مدینے کے ارد گرد

خنجر اِدھر حسین کی گردن پہ اور اُدھر
توحید بے قرار ہے سجدے کے ارد گرد

بنتِ حسین نے یہ سرِ شام کہہ دیا
عابد حصار کھینچیے پردے کے ارد گرد

مالک مجھے نصیب تو ہے رتجگا مگر
اک رات بس حسین کے خیمے کے ارد گرد