Skip to content

لہکتی لہروں میں جاں ہے کنارے زندہ ہیں

لہکتی لہروں میں جاں ہے کنارے زندہ ہیں
وجود آب کے سب استعارے زندہ ہیں

وہ ہجرتوں کی حکایت تمہیں سنائیں گے
جنہوں نے سر سے یہ طوفاں گزارے زندہ ہیں

ہمارے کرب کتابوں میں ہیں ابھی محفوظ
وہ سارے صفحے وہ سب گوشوارے زندہ ہیں

ازل سے جبر و صداقت کی جنگ جاری ہے
ابھی تلک نہیں مظلوم ہارے زندہ ہیں

مجالس ستم ایجاد کا نشان نہیں
محبتوں کے ابھی تک ادارے زندہ ہیں

جو تیرے غم میں جلے ہیں وہ پھر بجھے ہی نہیں
جب ان کی راکھ کریدو شرارے زندہ ہیں

ابھی تمہارے تڑپنے کے دن نہیں آئے
ابھی تو خیر سے خادم تمہارے زندہ ہیں

ہم اپنے جینے کا اب کیا جواز پیش کریں
کہ اب نہ ہم نہ زمانے ہمارے زندہ ہیں

ہر ایک شخص کو اس بات کا شعور نہیں
جو رامؔ حق پہ مرے ہیں وہ سارے زندہ ہیں