Skip to content

نہ آنکھیں سرخ رکھتے ہیں نہ چہرے زرد رکھتے ہیں

نہ آنکھیں سرخ رکھتے ہیں نہ چہرے زرد رکھتے ہیں
یہ ظالم لوگ بھی انسانیت کا درد رکھتے ہیں

مجھے شک ہے کہ تم تیرہ شبوں میں کیسے نکلو گے
چٹانیں کاٹنے کا حوصلہ تو مرد رکھتے ہیں

محبت کرنے والوں کی تمہیں پہچان بتلاؤں
دلوں میں آگ کے با وصف سینہ سرد رکھتے ہیں

ہوا نے اہل صحرا کو عجب ملبوس بخشا ہے
سروں پر لوگ پگڑی کے بجائے گرد رکھتے ہیں

اسے دیکھا تو چہرہ ڈھانپ لو گے اپنے ہاتھوں سے
ہم اپنے ساتھیوں میں رامؔ ایسا فرد رکھتے ہیں