Skip to content

سرما تھا مگر پھر بھی وہ دن کتنے بڑے تھے

سرما تھا مگر پھر بھی وہ دن کتنے بڑے تھے
اس چاند سے جب پہلے پہل نین لڑے تھے

رستے بڑے دشوار تھے اور کوس کڑے تھے
لیکن تری آواز پہ ہم دوڑ پڑے تھے

بہتا تھا مرے پاؤں تلے ریت کا دریا
اور دھوپ کے نیزے مری نس نس میں گڑے تھے

پیڑوں پہ کبھی ہم نے بھی پتھراؤ کیا تھا
شاخوں سے مگر سوکھے ہوئے پات جھڑے تھے

اے رامؔ وہ کس طرح لگے پار مسافر
جن کے سر و سامان یہ مٹی کے گھڑے تھے