Skip to content

روح میں گھور اندھیرے کو اترنے نہ دیا

روح میں گھور اندھیرے کو اترنے نہ دیا
ہم نے انسان میں انسان کو مرنے نہ دیا

تیرے بعد ایسی بھی تنہائی کی منزل آئی
کہ مرا ساتھ کسی راہ گزر نے نہ دیا

کون تھا کس نے یہاں دھوپ کے بادل برسائے
اور ترے حسن کی چاندی کو نکھرنے نہ دیا

پیاس کی آگ لگی بھوک کی آندھی اٹھی
ہم نے پھر جسم کا شیرازہ بکھرنے نہ دیا

زندگی کشمکش وقت میں گزری اپنی
دن نے جینے نہ دیا رات نے مرنے نہ دیا

اشک برسائے کبھی خون بہایا ہم نے
غم کا دریا کسی موسم میں اترنے نہ دیا