Skip to content

ہر ایک حال میں رہنا ہے باخدا ترے ساتھ

ہر ایک حال میں رہنا ہے باخدا ترے ساتھ
تو غم پسند کرے اور میں مرثیہ ترے ساتھ

غزل کے باب میں ممکن ہو کاش ایسا کچھ
کہ تو ردیف رہے اور میں قافیہ ترے ساتھ

تو تیغ لے کے چلے رن میں اور خوب لڑے
میں تیرے ساتھ رہوں بن کے رزمیہ ترے ساتھ

تو ایک نظم ہو لیکن ہو صرف میری لکھی
کسی کا نام پڑھوں کیسے میں لکھا ترے ساتھ

نہ وہ کڑک ہے پرانی نہ اس میں ہے وہ مٹھاس
یہ چاہے ذائقہ دیتی ہے بس جُدا ترے ساتھ