Skip to content

یہ سارا روپ کا ہوتا کمال ہے پیارے

یہ سارا روپ کا ہوتا کمال ہے پیارے
شراب سرکہ بنے تو حلال ہے پیارے

عروج والے ہی سمجھیں بلندیوں کا خمار
ہمیں تو اتنا پتا ہے زوال ہے پیارے

کوئی تو رستہ نکالو کہ سانس لے پاؤں
بہت دنوں سے طبیعت نڈھال ہے پیارے

ابھی تلک تو تبسم کا سامنا ہے تمہیں
ابھی کہاں تو نے دیکھا جلال ہے پیارے

ہمیں تو ہیں جو سرِ کربلا پکارے گئے
یہ روز حشر تلک کا سوال ہے پیارے

شکار آج بھی اچھا کیا ہے اس نے مگر
شکاری آج بہت پرملال ہے پیارے