Skip to content

یہ دل شمالی علاقوں کی اور بڑھنے لگا

یہ دل شمالی علاقوں کی اور بڑھنے لگا
تمہارے ہجر کا پربت بھی چھوٹا پڑنے لگا

تمہاری آنکھوں سے وسعت کشید ہونے لگی
یہ ایک دریا تو اب کوزے سے نکلنے لگا

جو پہلے کہہ رہا تھا راستہ بدلنا نہیں
وہ پہلے موڑ پہ ہی راستہ بدلنے لگا

کبھی گناہ مرے عشق کی نمو بھی رہے
میں اب گناہوں سے کچھ اور بھی بگڑنے لگا

کوئی بھی نقطہ مرے فہم تک نہیں پہنچا
جو من میں آتا گیا شعر میں اگلنے لگا

گیا وہ شوق کہ منظر پہ میں رہوں ہر سو
میں اپنی شعری روایت کا ڈھب بدلنے گا