Skip to content

شب تھکن سے چُور میں تھا، خواب نے آواز دی

شب تھکن سے چُور میں تھا، خواب نے آواز دی
جیسے اک پیاسے کو بَن میں آب نے آواز دی

زور سے پٹخا گیا مجھ کو فصیلِ ہجر سے
یہ محبت تلخ ہے اک باب نے آواز دی

انتظارِ صبح میں ضائع کرو گے رات کو
بر سرِ آبِ رواں مہتاب نے آواز دی

عصمتِ آلِ عَبا پر بات ہونا تھی ابھی
اک نشانِ سورہِ احزاب نے آواز دی

ٹھیک ہے تم اپنے مَن کی راگنی گاتی پھرو
اس کا کیا ہے جو دلِ سیماب نے آواز دی