Skip to content

جو اپنے آپ کی بھی سُن نہیں رہا کب سے

جو اپنے آپ کی بھی سُن نہیں رہا کب سے
وہ تجھ پہ کھلتا؟ جو خود پر نہیں کُھلا کب سے

یہ ٹھیک ہے کہ یہ دنیا بُلا رہی ہے تجھے
مگر جو تجھ کو بُلاتا رہا خدا کب سے

جنابِ شیخ کو دیکھا تو رند بول اٹھے
اداس آپ کے بن تھا یہ مے کدہ کب سے

خراجِ نطق عطا ہو، کلیمِ نوکِ سناں!
پڑا ہوا ہے ترے در پہ بے نوا کب سے

مرے حُسین تو آ رکھ قدم کہ دل کی زمیں
بُلا رہی ہے تجھے مثلِ نینوا کب سے

حُسین ہم کو عطائے فرید دیتے ہیں
وگرنہ ہم تو تھے مصداقِ ھل اَتٰی کب سے