Skip to content

آنکھ نے آج تک نہیں دیکھا

آنکھ نے آج تک نہیں دیکھا
ایسا منظر جو تُو دکھاتا ہے

راہ ہوتی ہے دل کو دل سے مگر
کوئی تو راستہ بناتا ہے

آپ کے آنکھ موند لینے سے
ہر طرف ہی اندھیرا چھاتا ہے

خواب تو پر سکون سوتے ہیں
کون ہے جو مجھے جگاتا ہے

یہ حِکایت نہیں حقیقت ہے
رات کو دن بنایا جاتا ہے