Skip to content

ہر گام ظلم و جور ہے ہر آن کربلا

ہر گام ظلم و جور ہے ہر آن کربلا
یہ مرثیے کا دور ہے اور میں غزل سرا

آنکھیں تو ہو گئی ہیں ہوس کی قیام گاہ
جا کائنات کے لیے کچھ اور ڈھونڈ لا

الفاظ نوحہ خواں ہوئے دل سینہ زن ہوا
ماتم سَرا نہ ہو تو زمینِ غزل ہو کیا؟

وحدت سِکھا رہا ہے تَو پھر اور راہ لے
آدابِ اختلاف سِکھاتا ہے تو سِکھا

لا ساقیا پلا کہ غموں سے بدن ہے چُور
یا کہہ دے میں بھی شیخ کے ہمراہ ہو لیا