Skip to content

جہانِ دل میں عجب اک خمار رکھنا پڑا

جہانِ دل میں عجب اک خمار رکھنا پڑا
نفیس ہوتے ہوئے بھی غبار رکھنا پڑا

وگرنہ کوئی تعلق نہ تھا بلندی سے
بس اک وقار کی خاطر اُبھار رکھنا پڑا

تعلقات کہاں دائروں سے چلتے ہیں
مجھ ایسے شخص کو لیکن حصار رکھنا پڑا

خلاف سنت آدم کوئی گیا ہے بھلا
سبھی کو پہلا قدم اشک بار رکھنا پڑا

یہ کس نے تذکرہ چھیڑا سیاہ راتوں کا
سو روشنی کو وہیں پر نکھار رکھنا پڑا