Skip to content

طنابِ خیمۂ دل کھینچ کر ارادہ کیا

طنابِ خیمۂ دل کھینچ کر ارادہ کیا
قیامِ الفتِ جاناں کو ہم نے جادہ کیا

جسے اتار کے پھینکا گیا بوقت وصال
اس ایک لمحۂ دل سوز کو لبادہ کیا

ہماری چپ کے توسط سے ہو گیا اعجاز
جو کم سخن تھا اسی نے سخن زیادہ کیا

خرام کرتا ہوا قدسیوں میں لَوٹ گیا
ہمارے جیسوں نے جب فرشِ دل کشادہ کیا

یہ بات شعری روایت ہمیں بتائے گی
سخن کیا ہے کہ حضرت نے استفادہ کیا