Skip to content

یہ کنارِ دل میں جو آب جُو کا بہاؤ ہے

یہ کنارِ دل میں جو آب جُو کا بہاؤ ہے
اسے بہنے دے جو ٹھہر گیا تو الاؤ ہے

تری تا ابد رہیں پانیوں پہ حکومتیں
اِسے موجِ عشق سے دے ملا مری ناؤ ہے

اے مسیحِ زخمِ دل و جگر کہیں اور جا
مجھے چھوڑ دے مرے پاس ایک ہی گھاؤ ہے

جو جہانِ عقل و خرد ہے سمجھو وہ جنگ ہے
جو بیاضِ دل میں قیام ہے وہ بچاؤ ہے

ہے سخن وروں کی سمجھ سے آگے کا فلسفہ
مرے کم سخن کی جو خامشی میں رچاؤ ہے