Skip to content

تبھی آسمانِ ہنر پہ جلوہ فگن ہوا

تبھی آسمانِ ہنر پہ جلوہ فگن ہوا
مرا فن زمیں سے رچا تو شیریں سخن ہوا

کوئی ہاتھ بڑھ کے لپک گیا گلِ یاسمیں
کوئی دیکھتا کہ وہاں جو رنگِ چمن ہوا

جو بھی شہرِ دل سے گیا وہ لوٹا نہیں کبھی
کئی ہجرتوں کا ثمر ملا تو وہ بن ہوا

ابھی روح و جسم کے فلسفے میں کھڑے تھے ہم
تبھی میرا ہاتھ بڑھا تو وہ بھی بدن ہوا

کوئی لے گیا مری آشنائیاں رات سے
مرے واسطے کوئی روشنی کی کرن ہوا