Skip to content

زمانہ پوچھ رہا ہے مرے سخن کا جواب

زمانہ پوچھ رہا ہے مرے سخن کا جواب
ریاضتیں بھی ہیں لیکن عطا ہے فن کا جواب

کوئی تو شہر سے تھک ہار کر بھی آئے گا
یہی ہے گاؤں کا جنگل کا اور بن کا جواب

ہمیں تو بس تری باتوں میں آنا ہوتا ہے
ہمارے فہم میں اتنا ہے بھولے پن کا جواب

یہ جسم امرِ الہی کا ظرف ہوتا ہے
تم اپنی سمت سے دینا نہ کچھ بدن کا جواب

کچھ اس لیے بھی ہوں میں انتظارِ صبح لیے
اندھیر ہی نے فراہم کیا کرن کا جواب

حسینؔ شوق سے ماتھے پہ بل نہیں لائے
کہیں کہیں پہ شکن ہی تو ہے شکن کا جواب