Skip to content

سینے میں اگر ہو دل بیدار محبت

سینے میں اگر ہو دل بیدار محبت
ہر سانس ہے پیغمبر اسرار محبت

وہ بھی ہوئے جاتے ہیں طرفدار محبت
اچھے نظر آتے نہیں آثار محبت

ہشیار ہو اے بے خود و سرشار محبت
اظہار محبت! ارے اظہار محبت

تا دیر نہ ہو دل بھی خبردار محبت
اک یہ بھی ہے انداز فسوں کار محبت

توہین نگاہ کرم یار کہاں تک
دم لینے دے اے لذت آزار محبت

سب پھونک دیئے خار و خس مذہب و ملت
اللہ رے یک شعلۂ رخسار محبت

کونین سے کیا اہل محبت کو سروکار
کونین ہے خود حاشیہ بردار محبت

جو عرش کی رفعت کو بھی اس در پہ جھکا دے
ایسا بھی کوئی جذبۂ سرشار محبت

میں نے انہیں تاریک فضاؤں میں بھی اکثر
دیکھے ہیں برستے ہوئے انوار محبت

ناصح کو ہے کیوں میری محبت سے سروکار
چہرے سے تو کھلتے نہیں آثار محبت

میں اور یہ نمکین غم عشق ارے توبہ
تو اور یہ احساس گراں بار محبت!

اب عرض محبت کی جگرؔ کیوں نہیں جرأت
وہ سامنے ہیں گرم ہے بازار محبت