Skip to content

بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں

بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں
خالی ہے شیشہ اور پیے جا رہا ہوں میں

پیہم جو آہ آہ کیے جا رہا ہوں میں
دولت ہے غم زکوٰۃ دئیے جا رہا ہوں میں

مجبوری کمال محبت تو دیکھنا
جینا نہیں قبول جیے جا رہا ہوں میں

وہ دل کہاں ہے اب کہ جسے پیار کیجیے
مجبوریاں ہیں ساتھ دئیے جا رہا ہوں میں

رخصت ہوئی شباب کے ہم راہ زندگی
کہنے کی بات ہے کہ جیے جا رہا ہوں میں

پہلے شراب زیست تھی اب زیست ہے شراب
کوئی پلا رہا ہے پیے جا رہا ہوں میں