Skip to content

سبھی انداز حسن پیارے ہیں

سبھی انداز حسن پیارے ہیں
ہم مگر سادگی کے مارے ہیں

اس کی راتوں کا انتقام نہ پوچھ
جس نے ہنس ہنس کے دن گزارے ہیں

اے سہاروں کی زندگی والو
کتنے انسان بے سہارے ہیں

لالہ و گل سے تجھ کو کیا نسبت
نا مکمل سے استعارے ہیں

ہم تو اب ڈوب کر ہی ابھریں گے
وہ رہیں شاد جو کنارے ہیں

شب فرقت بھی جگمگا اٹھی
اشک غم ہیں کہ ماہ پارے ہیں

آتش عشق وہ جہنم ہے
جس میں فردوس کے نظارے ہیں

وہ ہمیں ہیں کہ جن کے ہاتھوں نے
گیسوئے زندگی سنوارے ہیں

حسن کی بے نیازیوں پہ نہ جا
بے اشارے بھی کچھ اشارے ہیں