Skip to content

جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے

جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے
ہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے

دل کا وہ حال ہوا ہے غم دوراں کے تلے
جیسے اک لاش چٹانوں میں دبا دی جائے

انہیں گل رنگ دریچوں سے سحر جھانکے گی
کیوں نہ کھلتے ہوئے زخموں کو دعا دی جائے

کم نہیں نشے میں جاڑے کی گلابی راتیں
اور اگر تیری جوانی بھی ملا دی جائے

ہم سے پوچھو کہ غزل کیا ہے غزل کا فن کیا
چند لفظوں میں کوئی آگ چھپا دی جائے