Skip to content

سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی

سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی
تم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی

ان سے یہی کہہ آئیں کہ اب ہم نہ ملیں گے
آخر کوئی تقریب ملاقات بنے گی

اے ناوک غم دل میں ہے اک بوند لہو کی
کچھ اور تو کیا ہم سے مدارات بنے گی

یہ ہم سے نہ ہوگا کہ کسی ایک کو چاہیں
اے عشق ہماری نہ ترے سات بنے گی

یہ کیا ہے کہ بڑھتے چلو بڑھتے چلو آگے
جب بیٹھ کے سوچیں گے تو کچھ بات بنے گی