Skip to content

ہم تم میں کل دوری بھی ہو سکتی ہے

ہم تم میں کل دوری بھی ہو سکتی ہے
وجہ کوئی مجبوری بھی ہو سکتی ہے

پیار کی خاطر کچھ بھی ہم کر سکتے ہیں
وہ تیری مزدوری بھی ہو سکتی ہے

سکھ کا دن کچھ پہلے بھی چڑھ سکتا ہے
دکھ کی رات عبوری بھی ہو سکتی ہے

دشمن مجھ پر غالب بھی آ سکتا ہے
ہار مری مجبوری بھی ہو سکتی ہے

بیدلؔ مجھ میں یہ جو اک کمی سی ہے
وہ چاہے تو پوری بھی ہو سکتی ہے